Add to favourites
News Local and Global in your language
16th of October 2018

International



’پاکستان میں میڈیا کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا ہے‘

صحافیوں کی تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے بدھ کو اپنی خصوصی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کی جان کو خطرہ اور ان کے خلاف ہونے والے تشدد میں گذشتہ برسوں کے مقابلے میں کمی آئی ہے لیکن مجموعی طور پر آزاد صحافت کرنے کے حالات مزید ناموافق ہو گئے ہیں۔

’ایکٹس آف انٹی میڈیشن‘ یعنی ’ڈرانے دھمکانے کے اقدامات‘ کے نام سے تیار کی گئی اس رپورٹ کے لیے سی پی جے کہ دو افسران نے فروری 2018 میں پاکستان کے پانچ شہروں کا جن میں کراچی، اسلام آباد، لاہور، پشاور اور اوکاڑہ شامل ہیں، دورہ کیا جہاں انھوں نے صحافیوں اور مختلف میڈیا کے اداروں سے ملاقاتیں کی۔

سی پی جے کی جانب سے تشکیل دی گئی رپورٹ پاکستان کے مختلف شہروں میں صحافیوں سے گفتگو کے بعد تیار کی گئی اور ان کے مطابق صحافیوں کی جانب سے دیے گئے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں 'میڈیا کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا ہے۔'

اس بارے میں مزید پڑھیے

سینسرشپ: ’حساس موضوعات کو ہاتھ نہ لگائیں‘

’صحافی سیلف سینسرشپ پر مجبور‘

’جب صحافی ریاستی اداروں کی زبان بولنے لگیں‘

دنیا بھر میں صحافیوں کی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی اس خصوصی رپورٹ کے مطابق 'پاکستانی فوج کی جانب سے خاموشی سے لیکن مؤثر انداز میں رپورٹنگ کرنے پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ کبھی مختلف علاقوں تک رسائی حاصل کرنے سے منع کیا جاتا ہے تو کہیں پر سیلف سنسرشپ کرنے کے لیے براہ راست یا بالواسطہ طریقے سے کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے کبھی مدیروں کو فون کر کے شکایت کی جاتی ہے اور کبھی مبینہ طور پر ان کے خلاف تشدد کرنے کے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔'

سی پی جے نے لکھا کہ رپورٹ کی تیاری میں انھوں نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کو سوالات کی تفصیلی فہرست ای میل کی تھی لیکن انھیں اس کا جواب نہیں ملا۔ کمیٹی کے مطابق آصف غفور نے ملاقات کی درخواست کا بھی جواب نہیں دیا اور اس کے علاوہ (سابق) وفاقی وزیر اطلاعات سے طے کی گئی میٹنگ آخری لمحات میں منسوخ کر دی گئی تھی۔

سی پی جے کی رپورٹ میں جن صحافیوں سے بات کی گئی ان کے مطابق دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد فوجی کاروائیوں کے بعد میڈیا کے اراکین کے خلاف حملوں کی تعداد میں واضح کمی آئی۔

لیکن رپورٹ میں درج ہے کہ 'جہاں ایک جانب اچھی خبر اس حوالے سے سامنے آئی ہے کہ صحافیوں کو قتل کیے جانے کے واقعات میں کمی آئی، صحافیوں پر حملے کیے جانے کے خدشات وہیں کے وہیں ہیں۔'

ملک بھر میں چند صحافی جیسے طلحہ صدیقی اور احمد نورانی پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرنے کے علاوہ رپورٹ میں جیو ٹی وی چینل اور انگریزی روزنامہ ڈان کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’یہ ملک بھر میں آزادی صحافت پر قدغن لگانے کی مثال ہیں‘۔

سی پی جے کی رپورٹ میں اکتوبر 2016 میں ڈان میں شائع ہونے والی اس خبر کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جو بعد میں 'ڈان لیکس' کے نام سے مشہور ہوئی تھی۔

ڈان اخبار کے مدیر ظفر عباس نے سی پی جے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ڈان لیکس کا معاملہ اسی لیے چلتا رہا کیونکہ ملک میں سول ملٹری تعلقات ابھی بھی ناساز ہیں۔'

سی پی جے کی رپورٹ کے مطابق 'فوج اور دوسرے طاقتور اداروں نے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جو میڈیا کی آزادی میں رکاوٹ بنتے ہیں' اور اس کی وجہ سے میڈیا کو ملک کے حالات اور اہم معاملات سچائی کے ساتھ پیش کرنے میں دشواری کا سامنا ہے اور اس سے عوام کو حالات سے مکمل واقفیت نہیں ہوتی۔'

Read More




Leave A Comment

More News

BBCUrdu.com | صفحۂ

دنیا - وائس آف

The News International -

AAJ News

AL JAZEERA ENGLISH (AJE)

The Dawn News - Home

China Post Online -

Reuters: World News

FOX News

Asian Correspondent

Disclaimer and Notice:WorldProNews.com is not the owner of these news or any information published on this site.