Add to favourites
News Local and Global in your language
22nd of July 2018

International



انتخابات سے قبل پاکستانی میڈیا پر ’حملہ‘

ذرا تصور کریں آپ نیویارک میں ایک صبح بیدار ہوں اور نیویارک ٹائمز نہ ہو، اخباروں کے سٹال بند ہوں اور ہاکر سڑکوں پر نہ ہوں۔

کچھ ایسا ہی کئی پاکستانیوں کے ساتھ ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان کا سب سے بڑا انگریزی اخبار ڈان ان کی ناشتے کی میز پر نہیں آ رہا۔

پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے بڑے پیمانے پر ٹی وی چینلوں، اخبارات اور سوشل میڈیا کی سینسرشپ کا سٹیج ترتیب دیا جا رہا ہے۔

بعض صحافیوں، سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کے سابق سربراہ نواز شریف کے مطابق میڈیا اور بعض سیاسی جماعتوں کو فوج اور عدلیہ پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ اتحاد چلا رہا ہے۔

فوج اور عدلیہ اس الزام کو مسترد کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سینسرشپ: ’حساس موضوعات کو ہاتھ نہ لگائیں‘

’صحافی سیلف سینسرشپ پر مجبور‘

’جب صحافی ریاستی اداروں کی زبان بولنے لگیں‘

ساکھ میں کمی

تاہم یہ ڈان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جنگ ہے جس نے سب کی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی ہے۔

ڈان ایک ایسا غیر سرکاری اخبار ہے جو کاروباری حضرات، سفارتکاروں اور فوجی افسران کے لیے ناگزیر ہے، اور یہ اپنے بااثر اداریوں کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔

انگریزی اخبار ڈان کو ایک خاص مقام بھی حاصل ہے کیونکہ اسی کی بنیاد پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے تقسیم سے قبل اس وقت رکھی تھی جب برٹش انڈیا میں مسلمانوں کے پاس نو آبادیاتی طاقتوں سے رابطہ کرنے کے لیے کوئی ذریعہ موجود نہیں تھا۔

اس وقت سے ڈان کو ایک طویل عرصے تک اسٹیبلشمنٹ کا اخبار سمجھا جاتا رہا۔

لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

ڈان نے پابندی، صحافیوں کو ہراساں کیے جانے، ہر شہر میں فوجی چھاؤنیوں میں اخبار کی تقیسم پر پابندی، کیبل ٹی وی چینلز پر نشریات کی بندش، اشتہارات کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن میں کمی جیسے واقعات کا سامنا کیا ہے۔

گذشتہ سال صوبہ بلوچستان میں بھی ڈان اخبار کئی ہفتوں تک دستیاب نہیں تھا۔

دوسری جانب میڈیا سے تعلق رکھنے والی دیگر شخصیات کو پراسرار نقاب پوش افراد کی جانب سے اغوا، جسمانی تشدد اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کوئی بھی صحافی ان افراد کے نام نہیں لیتا لیکن ہر صحافی کو اس بات کا یقین ہے کہ ان افراد کا تعلق فوج کی خفیہ ایجنسیوں سے ہے۔

تاہم ڈان نے خود سے فوج کے خلاف شکایات یا اپنے اوپر بیتے واقعات پر کئی ماہ تک خاموشی کے بعد حال ہی میں ایک کاٹ دار اداریہ شائع کیا جس میں کھل کر بات کی گئی تھی۔

یہ اداریہ اس کی اہم اور نواز شریف کی حکومت کے دوران فوج اور سول حکام کے درمیان رنجش کے بارے میں حقیقی رپورٹنگ کو بیان کرتا ہے۔ اس دوران ڈان کے اس رویے، اور اپنی کہانی کے ذرائع کو تحفظ دینے پر اصرار نے فوج کو برہم کیا جبکہ یہ دنیا بھر میں صحافت کا بنیادی اصول ہے۔

ڈان کے اس اداریے میں لکھا گیا ہے : ’ڈان اور اس کے عملے کے خلاف غلط معلومات کی مہم، توہین اور بہتان تراشی، نفرت انگیزی اور تشدد پر بھڑکانے نے لازم کر دیا کہ بعض معاملات کو ریکارڈ پر لایا جائے‘۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ’ریاست کے کچھ حصے یا ان کے کچھ عناصر‘ آئین میں دی گئی آزادیاں نہیں دے پا رہے ہیں۔

ڈان کا کہنا ہے کہ وہ 2016 سے زیرِ عتاب ہے لیکن اس سب میں ’شدید تیزی‘ رواں سال مئی سے آئی ہے۔

گذشتہ سال اردو کے ایک بڑے اخبار جنگ اور اس سے وابستہ ٹی وی چینل جیو کو دھمکیاں دی گئی اور ایسا ہی مالی دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنے ملازمین کو تین ماہ تک تنخواہیں ادا نہیں کر سکا۔

ڈان کے برخلاف اس کے سینیئر مدیر بظاہر فوج کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچ گئے ہیں۔

ان سے ہٹ کر جو افراد نشانہ بنے وہ سوشل میڈیا بلاگرز ہیں جو اپنے بلاگز میں وہ سب لکھتے ہیں جسے فوج ریاست مخالف پراپیگینڈا قرار دیتی ہے۔

دریں اثنا پاکستانی فوج پریس کے کام میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو بارہا مسترد کر چکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کو آزاد اور شفاف کرانے کے لیے پرعزم ہے، تاہم وہ سوشل میڈیا کی نگرانی کرنے کی تصدیق کر چکی ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو اس کی بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستان کی اپنی ہی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ایک شدت پسند رہنما کا نام اس فہرست سے نکال دیا گیا ان کی جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی۔

اہل سنت والجماعت کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی اب سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں۔

ان کی جماعت نے اب نام تبدیل کر لیا ہے اور ان سے وابستہ درجنوں امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

دوسری جانب ایک اور شدت پسند گروپ لشکرِ طیبہ سے وابستہ سینکروں امیدوار نئے انتخابی نام کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

پالیسی میں ایسی تبدیلی کو نہ تو کوئی تسلیم کر رہا ہے اور نہ ہی اس کی توجیح پیش کی جا رہی ہے۔ فوج، عدلیہ اور نگران حکومت کسی نے بھی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

معروف خاتون بلاگر گل بخاری کے لاہور میں لاپتہ ہونے کے بعد سے پریس، شدت پسند گروپوں کی کیوں حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اور انھیں کیوں تحفظ دیا جا رہا ہے جیسے مسلے پر بات کرنے سے خوفزدہ ہے۔

انتخابات کے دوران مائیکرومینجمنٹ بھی پراسرار، نا معلوم ہے کہ آیا اسے کون چلا رہا ہے اور یہ کیوں ہو رہا ہے۔

جب تک صحافیوں کو حقائق بیان کرنے پر ہراساں کیا جانا دھمکیاں دینا بند نہیں ہوتا، پاکستانیوں کو ناشتہ کرتے ڈان اخبار پڑھنے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔

Read More




Leave A Comment

More News

BBCUrdu.com | صفحۂ

دنیا - وائس آف

The News International -

AAJ News

AL JAZEERA ENGLISH (AJE)

The Dawn News - Home

China Post Online -

Reuters: World News

FOX News

Asian Correspondent

Disclaimer and Notice:WorldProNews.com is not the owner of these news or any information published on this site.