Add to favourites
News Local and Global in your language
23rd of July 2018

International



’نفرت انگیز مواد‘ پر آفکام کی کارروائی

برطانوی میڈیا کے نگراں ادارے آفکام نے برطانیہ میں ایک پاکستانی ٹاک شو میں احمدی برادری کے خلاف ’نفرت انگیز گفتگو‘، ’توہین آمیز گفتگو‘ اور ’تکلیف پہنچانے والی گفتگو‘ نشر کرنے کے نتیجے میں مقامی چینل کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ سنایا ہے۔

آفکام کے مطابق انھیں برطانیہ میں نشر ہونے والے ’چینل 44‘ پر دسمبر 2017 میں چلنے والے ٹاک شو ’پوائنٹ آف ویو‘ کے دو پروگرامز کے خلاف شکایات ملیں تھیں کہ اس میں احمدی برادری کے خلاف نفرت انگیز مواد نشر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایک پروگرام پاکستان میں ’چینل 24‘ پر نشر کیا گیا تھا جو کہ برطانیہ میں ’چینل 44‘ کا پارٹنر ہے اور آفکام کے مطابق اس کی میزبانی اینکر ڈاکٹر دانش کر رہے تھے۔

آفکام انھوں نے ’چینل 44‘ سے پروگرام پر چلنے والے مبینہ طور پر 'نفرت آمیز مواد' کی وضاحت طلب کی جس پر چینل کی انتظامیہ نے اپنے جواب میں کہا کہ وہ ’اس مواد سے کسی کو بھی تکلیف پہنچنے پر معافی مانگتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

اقلیتوں کا پاکستان: ’مذہب ذات یا نسل سے ریاست کا کوئی لینا دینا نہیں‘

ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے

پشاور: ہندو مردے جلانے کے بجائے دفنانے لگے

’چینل 44‘ کی جانب سے آفکام کو جواب میں کہا گیا کہ انھوں نے پروگرام کے میزبان ڈاکٹر دانش کو پیغام دیا تھا کہ وہ پروگرام میں آنے والے مہمانوں کے تبصروں کو چیلنج کریں لیکن انھوں نے اعتراف کیا کہ ’ڈاکٹر دانش نے پروگرام میں آنے والے مہمانوں سے ان کی رائے کے بارے میں سوالات نہیں کیے۔‘

’چینل 44‘ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ میزبان ڈاکٹر دانش کو پروگرام کے بعد تنبیہ کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ وہ مہمانوں کو کسی بھی موضوع پر گفتگو کرنے نہ دیں جس کے بارے میں ان کے پاس ٹھوس شواہد نہ ہوں لیکن ڈاکٹر دانش ایسا نہ کر سکے۔‘

’چینل 44‘ کی جانب سے دی گئی وضاحت میں کہا گیا کہ انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر دانش اب براہ راست کوئی پروگرام نہیں کر سکیں گے۔

آفکام کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر دانش کو بھی ان کا موقف بیان کرنے کی اجازت دی گئی جس میں انھوں نے انھوں نے کہا کہ چینل کی پالیسی واضح ہے اور اس کا مہمانوں کی رائے سے اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں اور اس حوالے سے وہ بحیثیت میزبان اپنے مہمانوں کی رائے پر روک ٹوک نہیں کرتے۔

واضح رہے کہ دونوں پروگراموں میں ڈاکٹر دانش کے مہمانوں نے احمدی برادری کے خلاف سنگین نوعیت کے مختلف الزامات بغیر کسی ثبوت کے عائد کیے تھے۔

آفکام نے رپورٹ میں کہا کہ دونوں پروگراموں میں لگائے گئے کسی بھی الزام کا نہ مہمانوں نے ثبوت پیش کیا اور نہ ہی ڈاکٹر دانش نے ان الزامات کی نفی کی اور نہ ہی وضاحت مانگی۔

فیصلہ سناتے ہوئے آفکام نے کہا کہ ’چینل 44‘ کے پروگرام نے ان کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کے خلاف ضابطہ کار کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اس بارے میں جب بی بی سی نے ڈاکٹر دانش سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ وہ آفکام کو دیے گئے جوابات پر قائم ہیں اور ان کا آفکام کے فیصلے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

اب چینل 92 ایچ ڈی سے منسلک ڈاکٹر دانش نے کہا کہ ’آفکام نے میرے جوابات پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے بلکہ میرے موقف کی تائید کی ہے۔'

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ڈاکٹر دانش کا پروگرام آفکام حکام کے زیر اعتاب آیا ہے۔

اس سے قبل 2016 میں جب وہ چینل اے آر وائی سے وابستہ تھے تو اس چینل پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں انھوں نے اور ان کے مہمان نے پاکستانی کی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی اور ان کے والد ضیا الدین یوسفزئی کے خلاف گفتگو کی تھی جس پر آفکام نے اعتراض کیا تھا اور نتیجتاً اے آر وائی نے انھیں نوکری سے فارغ کر دیا تھا۔

بی بی سی نے جب پاکستانی میڈیا کے نگراں ادارے پیمرے کے ترجمان محمد طاہر سے آفکام کے فیصلے کے بارے میں بات کی تو انھوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ پیمرا کے آئین میں نفرت آمیز مواد سے نپٹنے اور اس کے خلاف کاروائی کرنے کا طریقہ کار وضح کیا گیا ہے اور اگر کسی مواد پر پیمرا کو شکایت کی جائے تو وہ اس پر کارروائی کی جاتی ہے۔

پاکستان میں میڈیا کے کردار اور اس کی نشریات کے اثرات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار عدنان رحمت نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ پیمرا کے پاس نفرت آمیز مواد کے خلاف کارروائی کرنے کی زیادہ اہلیت نہیں ہے۔

’پیمرا کا ماضی کا ریکارڈ بھی اس حوالے سے اچھا نہیں ہے۔ ان کے پاس اپنے قوانین پر عمل درآمد کرانے کی صلاحیت نہیں ہے اور وہ سپریم کورٹ میں بھی اس بارے میں اعتراف کر چکے ہیں۔‘

عدنان رحمت نے مزید کہا کہ پیمرا تادیبی کارروائی صرف اس صورت میں کرتی ہے جب اس کے پاس باضابطہ شکایت کی جائے لیکن وہ خود سے معاملہ شروع نہیں کرتے۔

’افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں چند اقلیتوں کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کے خلاف ہرزہ آرائی کی جاتی ہے۔ لیکن کیونکہ ان اقلیتی گروپس کی حمایت کرنا خطرے کا باعث سمجھا جاتا ہے تو نہ سرکار ان ک تحفظ کے لیے کسی قسم کی کارروائی کرتی ہے اور نہ ہی پیمرا۔ اس سے میڈیا پر اینکرز اور ان کے مہمانوں کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے اور نفرت اور جھوٹ پر مبنی بیانیہ زیادہ تقویت پکڑتا ہے۔‘

Read More




Leave A Comment

More News

BBCUrdu.com | صفحۂ

دنیا - وائس آف

The News International -

AAJ News

AL JAZEERA ENGLISH (AJE)

The Dawn News - Home

China Post Online -

Reuters: World News

FOX News

Asian Correspondent

Disclaimer and Notice:WorldProNews.com is not the owner of these news or any information published on this site.