Add to favourites
News Local and Global in your language
23rd of July 2018

International



بھلا کرکٹ کا سیاست سے کیا تعلق؟

زمبابوے کو ٹیسٹ سٹیٹس سنہ 1992 میں ملا تھا۔ زمبابوے ٹیسٹ سٹیٹس پانے والی نویں ٹیم تھی۔ اس سے پہلے ٹیسٹ کرکٹ آٹھ ٹیموں تک محدود تھی، لیکن زمبابوے کے آنے کے بعد بھی بدقسمتی سے ٹیسٹ کرکٹ آٹھ ٹیموں تک ہی محدود رہی۔

آج تک زمبابوے کی تاریخ میں بہترین آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ نواں نمبر ہی ہے۔ فی الوقت زمبابوے ٹیسٹ رینکنگ میں دسویں نمبر پہ ہے۔

ون ڈے میں یہ ٹیم گیارہویں نمبر پہ ہے جبکہ ٹی ٹونٹی رینکنگ میں اس کا نمبر بارہواں ہے۔ کسی بھی فارمیٹ میں اس کی تاحال بہترین رینکنگ آٹھواں نمبر ہے جو کبھی اسے ون ڈے میں میسر ہوا تھا۔

دنیا کو حیران کرنے والے معذور پاکستانی کرکٹرز

پاکستان نے زمبابوے کو سات وکٹوں سے شکست دے دی

ماساکدزا بھول گئے کہ محمد نواز بھی ہیں!

زمبابوے کے بہت بعد بنگلہ دیش کو ٹیسٹ سٹیٹس ملا تھا لیکن بنگلہ دیش کی فتوحات کا تناسب زمبابوے سے کہیں زیادہ رہا ہے۔ اس کی ٹیسٹ کرکٹ بھی زمبابوے سے کہیں بہتر رہی ہے۔ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں بلاشبہ یہ ایک مشکل سائیڈ ہے۔

بطور ٹیسٹ پلئینگ نیشن زمبابوے وہ واحد ملک ہے جس نے ایک بار بذات خود ٹیسٹ کرکٹ سے جلاوطنی اختیار کر لی۔ فنڈز کی کمی اور کرکٹ کوالٹی کے سبب 2006 میں زمبابوے نے اعلان کیا کہ وہ مزید ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلے گا۔ یہ جلاوطنی 2011 تک برقرار رہی۔

ورلڈ کپ 2003 میں زمبابوے جنوبی افریقہ کے ہمراہ مشترکہ میزبان تھا لیکن ڈکٹیٹرشپ کے سبب سکیورٹی کی مخدوش صورتحال اور پلئیرز کے احتجاج سے نوبت یہاں تک پہنچی کہ انگلینڈ نے زمبابوے میں کھیلنے سے انکار کر کے فورفیٹ کو ترجیح دی۔

ورلڈکپ 2007 آیا تو زمبابوے کرکٹ ایک بار پھر مالی بحران کا شکار تھی اور پلئیرز بائیکاٹ کی طرف جا رہے تھے۔ زمبابوے کرکٹ نے آئی سی سی سے درخواست کر کے ورلڈ کپ ریونیو میں اپنا شئیر ایڈوانس لیا تاکہ اس کے مالی مسائل کم ہو سکیں۔

اس ٹرائی سیریز سے پہلے بھی ایسے ہی مالی حالات درپیش تھے جن کے نتیجے میں پانچ سٹار پلئیرز نے بائیکاٹ کر دیا اور زمبابوے کو ایک نو آموز سکواڈ کے ساتھ میدان میں اترنا پڑا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک اچھا ٹوٹل سیٹ کر کے بھی زمبابوے پاکستان سے ہار گیا اور اپنی ہی میزبانی میں کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ کے فائنل سے باہر ہو گیا۔

آئی سی سی جب کسی کرکٹنگ نیشن کو کوئی سٹیٹس دیتی ہے تو اس کے کچھ مخصوص پیرائے ہوتے ہیں۔ کچھ مقررہ معیارات ہوتے ہیں۔ لیکن ان معینہ معیارات میں صرف کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو ہی پیمانہ بنایا جاتا ہے۔ متعلقہ کرکٹ بورڈ کی کارکردگی اور اپروچ زیر غور نہیں لائی جاتی۔

زمبابوے فی الوقت دنیائے کرکٹ کی اوسط ٹیموں میں کھڑا ہے۔ ٹاپ ٹین میں سے کوئی ملک جب زمبابوے کے مقابل کھیلتا ہے تو پلئیرز ہی کیا، شائقین پہ بھی کوئی سنسنی طاری نہیں ہوتی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ زمبابوے اچھے کرکٹرز پیدا نہیں کرتا۔ اس نے ہر دور میں ورلڈ کلاس پلئیرز پیدا کیے ہیں۔ لیکن شومئی قسمت کہ یہ بحیثیت مجموعی کبھی ورلڈ کلاس ٹیم نہیں بن پائی۔

اس کی وجہ زمبابوے کرکٹ بورڈ کے درون خانہ پیچیدہ و پوشیدہ معاملات ہیں جن میں کہیں کرپشن ہے تو کہیں نسل پرستی، کہیں مالی بحران ہیں تو کہیں بے معنی مگر بے تحاشہ سیاسی مداخلت۔

بھلا کرکٹ کا سیاست سے کیا تعلق اور کرکٹ بورڈ کو سیاسی حکومتوں سے کیا غرض؟ اگر سیاست اور کرکٹ باہم گڈمڈ نہ ہوتے تو آج اس کھیل کی مقبولیت کا عالم کچھ اور نہ ہوتا؟

پاکستان اور انڈیا کے پلئیرز ہر دور میں ایک دوسرے کے مداح رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے کھیلنا چاہتے ہیں لیکن سیاست بیچ میں چارپائی ڈال کر بیٹھ جاتی ہے۔ شائقین کرکٹ کا تو نقصان جو ہو سو ہو، ایک کرکٹ بورڈ کی جیب پہ اربوں کا بوجھ پڑ جاتا ہے، جس کی وجہ صرف اور صرف سیاسی ہے۔

زمبابوے کے حالیہ بحران کی وجہ بھی کرکٹ سے جڑی نہیں ہے۔ بھلے سٹارز بائیکاٹ کر گئے مگر سولومن مائر کی اننگ یہ بتانے کو کافی ہے کہ اس قوم میں کرکٹ کا کتنا پوٹینشل باقی ہے۔ بحران اگر کوئی ہے تو وہ صرف اور صرف سیاسی ہے۔

پچھلے دنوں آئی سی سی کی سالانہ میٹنگ میں چئیرمین ششانک منوہر نے زمبابوے کے لیے ایک بیل آوٹ پیکج کا اعلان کیا۔ یہ کوئی پہلا بیل آوٹ پیکج نہیں تھا نہ ہی یہ آخری ہو گا۔ کیونکہ جب تک زمبابوے کرکٹ سیاسی اثرورسوخ سے باہر نہیں آتی، قدم قدم پہ جگ ہنسائیاں اس کی راہ تکتی رہیں گی۔

Read More




Leave A Comment

More News

BBCUrdu.com | صفحۂ

دنیا - وائس آف

The News International -

AAJ News

AL JAZEERA ENGLISH (AJE)

The Dawn News - Home

China Post Online -

Reuters: World News

FOX News

Asian Correspondent

Disclaimer and Notice:WorldProNews.com is not the owner of these news or any information published on this site.